#2551
Sahih
Narrated Anas ibn Malik: When we alighted at a station (for stay), we did not pray until we united the saddles of the camels
حمزہ ضبی کہتے ہیں کہ میں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا کہ ہم کسی جگہ اترتے تو نماز نہ پڑھتے جب تک کہ ہم کجاؤں کو اونٹوں سے نیچے نہ اتار دیتے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ حَمْزَةَ الضَّبِّيِّ، قَالَ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، قَالَ كُنَّا إِذَا نَزَلْنَا مَنْزِلاً لاَ نُسَبِّحُ حَتَّى نَحُلَّ الرِّحَالَ .
#2552
Sahih
Abu Bashir Al Ansari said that he was with the Apostle of Allaah(ﷺ) on one of his journeys. The Apostle of Allaah(ﷺ)sent a messenger. The narrator ‘Abd Allah bin Abu Bakr said “I think he said while the people were sleeping. No necklace of bowstring or anything else must be left on a Camels’ neck, must be cut off. The narrator Malik said “I think this was due to evil eye.”
ابوبشیر انصاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک قاصد کے ذریعہ پیغام بھیجا، لوگ اپنی خواب گاہوں میں تھے: کسی اونٹ کی گردن میں کوئی تانت کا قلادہ باقی نہ رہے، اور نہ ہی کوئی اور قلادہ ہو مگر اسے کاٹ دیا جائے ۔ مالک کہتے ہیں: میرا خیال ہے لوگ یہ گنڈا نظر بد سے بچنے کے لیے باندھتے تھے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ تَمِيمٍ، أَنَّ أَبَا بَشِيرٍ الأَنْصَارِيَّ، أَخْبَرَهُ أَنَّهُ، كَانَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي بَعْضِ أَسْفَارِهِ فَأَرْسَلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم رَسُولاً - قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ حَسِبْتُ أَنَّهُ قَالَ - وَالنَّاسُ فِي مَبِيتِهِمْ " لاَ يُبْقَيَنَّ فِي رَقَبَةِ بَعِيرٍ قِلاَدَةٌ مِنْ وَتَرٍ وَلاَ قِلاَدَةٌ إِلاَّ قُطِعَتْ " . قَالَ مَالِكٌ أَرَى أَنَّ ذَلِكَ مِنْ أَجْلِ الْعَيْنِ .
#2553
Hasan
Narrated AbuWahb al-Jushami,: The Messenger of Allah (ﷺ) said: Tie the horses, rub down their forelocks and their buttocks (or he said: Their rumps), and put things on their necks, but do not put bowstrings
ابو وہب جشمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہیں ( اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی ) صحبت حاصل تھی – وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: گھوڑوں کو سرحد کی حفاظت کے لیے تیار کرو، اور ان کی پیشانیوں اور پٹھوں پر ہاتھ پھیرا کرو، اور ان کی گردنوں میں قلادہ ( پٹہ ) پہناؤ، اور انہیں ( نظر بد سے بچنے کے لیے ) تانت کا قلادہ نہ پہنانا ۔
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ سَعِيدٍ الطَّالْقَانِيُّ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُهَاجِرِ، حَدَّثَنِي عَقِيلُ بْنُ شَبِيبٍ، عَنْ أَبِي وَهْبٍ الْجُشَمِيِّ، - وَكَانَتْ لَهُ صُحْبَةٌ - قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " ارْتَبِطُوا الْخَيْلَ وَامْسَحُوا بِنَوَاصِيهَا وَأَعْجَازِهَا " . أَوْ قَالَ " أَكْفَالِهَا " . " وَقَلِّدُوهَا وَلاَ تُقَلِّدُوهَا الأَوْتَارَ " .
#2554
Sahih
Narrated Umm Habibah: The Prophet (ﷺ) said: The angels do not go with a travelling company in which there is a bell
ام المؤمنین ام حبیبہ رضی اللہ عنہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتی ہیں کہ آپ نے فرمایا: ( رحمت کے ) فرشتے ۱؎ اس جماعت کے ساتھ نہیں ہوتے جس کے ساتھ گھنٹی ہو ۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِي الْجَرَّاحِ، مَوْلَى أُمِّ حَبِيبَةَ عَنْ أُمِّ حَبِيبَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لاَ تَصْحَبُ الْمَلاَئِكَةُ رُفْقَةً فِيهَا جَرَسٌ " .
#2555
Sahih
Abu Hurairah reported the Apostle of Allaah(ﷺ) as saying “The angels do not accompany the fellow travelers who have a dog or bell (with them).”
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ( رحمت کے فرشتے ) اس جماعت کے ساتھ نہیں رہتے ہیں جس کے ساتھ کتا یا گھنٹی ہو ۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا سُهَيْلُ بْنُ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لاَ تَصْحَبُ الْمَلاَئِكَةُ رُفْقَةً فِيهَا كَلْبٌ أَوْ جَرَسٌ " .
#2556
Sahih
Abu Hurairah reported the Apostle of Allaah(ﷺ) as saying “The bell is a wooden wind musical instrument of Satan.”
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے گھنٹی کے بارے میں فرمایا: وہ شیطان کی بانسری ہے ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ بِلاَلٍ، عَنِ الْعَلاَءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ فِي الْجَرَسِ " مِزْمَارُ الشَّيْطَانِ " .
#2557
Sahih
Narrated Abdullah ibn Umar: It has been prohibited to ride the beast which eats dung
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ گندگی کھانے والے جانور کی سواری سے منع کیا گیا ہے۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ نُهِيَ عَنْ رُكُوبِ الْجَلاَّلَةِ
#2558
Hasan Sahih
Narrated Abdullah ibn Umar: The Messenger of Allah (ﷺ) prohibited to ride a camel which eats dung
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے گندگی کھانے والے اونٹوں کی سواری کرنے سے منع فرمایا ہے۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي سُرَيْجٍ الرَّازِيُّ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْجَهْمِ، حَدَّثَنَا عَمْرٌو، - يَعْنِي ابْنَ أَبِي قَيْسٍ - عَنْ أَيُّوبَ السَّخْتِيَانِيِّ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنِ الْجَلاَّلَةِ فِي الإِبِلِ أَنْ يُرْكَبَ عَلَيْهَا .
#2559
Shadh
Mu’adh said “I was seated behind the Prophet (ﷺ) on a donkey that was called ‘Ufair”
معاذ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں ایک گدھے پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے سوار تھا جس کو «عفیر» کہا جاتا تھا ۱؎۔
حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، عَنْ أَبِي الأَحْوَصِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ، عَنْ مُعَاذٍ، قَالَ كُنْتُ رِدْفَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلَى حِمَارٍ يُقَالُ لَهُ عُفَيْرٌ .
#2560
Daif
Narrated Samurah ibn Jundub: The Prophet (ﷺ) named our cavalry "the Cavalry of Allah," when we were struck with panic, and when panic overtook us, the Messenger of Allah (ﷺ) commanded us to be united, to have patience and perseverance; and to be so when we fought
سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ حمد و صلاۃ کے بعد کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے سواروں کو جب ہمیں دشمن سے گھبراہٹ ہوتی ( تسلی دیتے ہوئے ) «خیل اللہ» کہتے، اور ہمیں جماعت کو لازم پکڑنے اور صبر و سکون سے رہنے کا حکم دیتے، اور جب ہم قتال کر رہے ہوتے ( تو بھی انہیں کلمات کے ذریعہ ہمارا حوصلہ بڑھاتے ) ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ دَاوُدَ بْنِ سُفْيَانَ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ حَسَّانَ، أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ مُوسَى أَبُو دَاوُدَ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ سَعْدِ بْنِ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ، حَدَّثَنِي خُبَيْبُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ أَبِيهِ، سُلَيْمَانَ بْنِ سَمُرَةَ عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ، أَمَّا بَعْدُ فَإِنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم سَمَّى خَيْلَنَا خَيْلَ اللَّهِ إِذَا فَزِعْنَا وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَأْمُرُنَا إِذَا فَزِعْنَا بِالْجَمَاعَةِ وَالصَّبْرِ وَالسَّكِينَةِ وَإِذَا قَاتَلْنَا .
#2561
Sahih
‘Imran bin Hussain said “The Prophet (ﷺ) was on a journey. He heard a curse. He asked “What is this? They (the people) said “This is so and so (a woman) who cursed her riding beast. The Prophet (ﷺ) said “Remove the saddle from it, for it is accursed. So, they removed (the saddle) from it. ‘Imran said “As if I am looking at it a grey she Camel.”
عمران بن حصین رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک سفر میں تھے، آپ نے لعنت کی آواز سنی تو پوچھا: یہ کیا ہے؟ لوگوں نے کہا: فلاں عورت ہے جو اپنی سواری پر لعنت کر رہی ہے، اس پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس اونٹنی سے کجاوہ اتار لو کیونکہ وہ ملعون ہے ۱؎ ، لوگوں نے اس پر سے ( کجاوہ ) اتار لیا۔ عمران رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: گویا میں اسے دیکھ رہا ہوں، وہ ایک سیاہی مائل اونٹنی تھی۔
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلاَبَةَ، عَنْ أَبِي الْمُهَلَّبِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَانَ فِي سَفَرٍ فَسَمِعَ لَعْنَةً فَقَالَ " مَا هَذِهِ " . قَالُوا هَذِهِ فُلاَنَةُ لَعَنَتْ رَاحِلَتَهَا . فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " ضَعُوا عَنْهَا فَإِنَّهَا مَلْعُونَةٌ " . فَوَضَعُوا عَنْهَا . قَالَ عِمْرَانُ فَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَيْهَا نَاقَةً وَرْقَاءَ .
#2562
Daif
Narrated Abdullah ibn Abbas: The Messenger of Allah (ﷺ) prohibited to provoke the beasts for fighting
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جانوروں کو باہم لڑانے سے منع فرمایا ۱؎۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، عَنْ قُطْبَةَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ سِيَاهٍ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي يَحْيَى الْقَتَّاتِ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنِ التَّحْرِيشِ بَيْنَ الْبَهَائِمِ .
#2563
Sahih
Anas bin Malik said “I brought my brother when he was born to Prophet(ﷺ) to chew something for him and rub his palate with it and found him in a sheep pen branding the sheep, I think, on their ears.”
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں اپنے بھائی کی پیدائش پر اس کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے کر آیا تاکہ آپ اس کی تحنیک ( گھٹی ) ۱؎ فرما دیں، تو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جانوروں کے ایک باڑہ میں بکریوں کو نشان ( داغ ) لگا رہے تھے۔ ہشام کہتے ہیں: میرا خیال ہے کہ انس رضی اللہ عنہ نے کہا: ان کے کانوں پر داغ لگا رہے تھے۔
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ أَتَيْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم بِأَخٍ لِي حِينَ وُلِدَ لِيُحَنِّكَهُ فَإِذَا هُوَ فِي مِرْبَدٍ يَسِمُ غَنَمًا - أَحْسِبُهُ قَالَ - فِي آذَانِهَا .
#2564
Sahih
Jabir reported the Prophet (ﷺ) as saying when an ass which had been branded on its face passed him. Did it not reach you that I cursed him who branded the animals on their faces or struck them on their faces. So he prohibited it
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے ایک گدھا گزرا جس کے چہرہ کو داغ دیا گیا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تمہیں یہ بات نہیں پہنچی ہے کہ میں نے اس شخص پر لعنت کی ہے جو جانوروں کے چہرے کو داغ دے، یا ان کے چہرہ پہ مارے ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم مُرَّ عَلَيْهِ بِحِمَارٍ قَدْ وُسِمَ فِي وَجْهِهِ فَقَالَ " أَمَا بَلَغَكُمْ أَنِّي قَدْ لَعَنْتُ مَنْ وَسَمَ الْبَهِيمَةَ فِي وَجْهِهَا أَوْ ضَرَبَهَا فِي وَجْهِهَا " . فَنَهَى عَنْ ذَلِكَ .
#2565
Sahih
Narrated Ali ibn AbuTalib: The Messenger of Allah (ﷺ) was present with a she-mule which he rode, so Ali said: If we made asses cover mares we would have animals of this type. The Messenger of Allah (ﷺ) said: Only those who do not know do that
علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک خچر ہدیہ میں دیا گیا تو آپ اس پر سوار ہوئے، علی رضی اللہ عنہ نے کہا: اگر ہم ان گدھوں سے گھوڑیوں کی جفتی کرائیں تو اسی طرح کے خچر پیدا ہوں گے ( یہ سن کر ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایسا وہ لوگ کرتے ہیں جو ( شریعت کے احکام سے ) واقف نہیں ہیں ۱؎ ۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ، عَنِ ابْنِ زُرَيْرٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، - رضى الله عنه - قَالَ أُهْدِيَتْ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بَغْلَةٌ فَرَكِبَهَا . فَقَالَ عَلِيٌّ لَوْ حَمَلْنَا الْحَمِيرَ عَلَى الْخَيْلِ فَكَانَتْ لَنَا مِثْلُ هَذِهِ . قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنَّمَا يَفْعَلُ ذَلِكَ الَّذِينَ لاَ يَعْلَمُونَ " .
#2566
Sahih
‘Abd Allah bin Ja’far said “When the Prophet (ﷺ) arrived after a journey, we were taken for his reception. Any of us who met him first he lifted him in front of him. As I was the first to meet him, he lifted me in front of him. Then Hasan or Hussain was brought to him and he set him behind him. We the entered Madeenah and we (were) riding so (three on one beast).”
عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب سفر سے آتے تو ہم لوگ آپ کے استقبال کے لیے جاتے، جو ہم میں سے پہلے پہنچتا اس کو آپ آگے بٹھا لیتے، چنانچہ ( ایک بار ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اپنے سامنے پایا تو مجھے اپنے آگے بٹھا لیا، پھر حسن یا حسین پہنچے تو انہیں اپنے پیچھے بٹھا لیا، پھر ہم مدینہ میں اسی طرح ( سواری پر ) بیٹھے ہوئے داخل ہوئے۔
حَدَّثَنَا أَبُو صَالِحٍ، مَحْبُوبُ بْنُ مُوسَى أَخْبَرَنَا أَبُو إِسْحَاقَ الْفَزَارِيُّ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ سُلَيْمَانَ، عَنْ مُوَرِّقٍ، - يَعْنِي الْعِجْلِيَّ - حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ، قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِذَا قَدِمَ مِنْ سَفَرٍ اسْتُقْبِلَ بِنَا فَأَيُّنَا اسْتُقْبِلَ أَوَّلاً جَعَلَهُ أَمَامَهُ فَاسْتُقْبِلَ بِي فَحَمَلَنِي أَمَامَهُ ثُمَّ اسْتُقْبِلَ بِحَسَنٍ أَوْ حُسَيْنٍ فَجَعَلَهُ خَلْفَهُ فَدَخَلْنَا الْمَدِينَةَ وَإِنَّا لَكَذَلِكَ .
#2567
Sahih
Abu Hurairah reported the Prophet(ﷺ) as saying “Do not treat the backs of your beasts as pulpits, for Allaah has made them subject to you only to convey you to a town which you cannot reach without difficulty and He has appointed the earth (a floor to work) for you, so conduct your business on it
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنے جانوروں کی پیٹھ کو منبر بنانے سے بچو، کیونکہ اللہ نے ان جانوروں کو تمہارے تابع کر دیا ہے تاکہ وہ تمہیں ایک شہر سے دوسرے شہر پہنچائیں جہاں تم بڑی تکلیف اور مشقت سے پہنچ سکتے ہو، اور اللہ نے تمہارے لیے زمین بنائی ہے، تو اسی پر اپنی ضروریات کی تکمیل کیا کرو ۱؎ ۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ نَجْدَةَ، حَدَّثَنَا ابْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي عَمْرٍو السَّيْبَانِيِّ، عَنِ ابْنِ أَبِي مَرْيَمَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِيَّاكُمْ أَنْ تَتَّخِذُوا ظُهُورَ دَوَابِّكُمْ مَنَابِرَ فَإِنَّ اللَّهَ إِنَّمَا سَخَّرَهَا لَكُمْ لِتُبَلِّغَكُمْ إِلَى بَلَدٍ لَمْ تَكُونُوا بَالِغِيهِ إِلاَّ بِشِقِّ الأَنْفُسِ وَجَعَلَ لَكُمُ الأَرْضَ فَعَلَيْهَا فَاقْضُوا حَاجَتَكُمْ " .
#2568
Daif
Abu Hurairah reported the Apostle of Allaah(ﷺ) as saying “There are Camels which belong to devils and there are houses which belong to devils. As for the Camels of the devils, I have seen them. One of you goes out with his side Camels which he has fattened neither riding any of them nor giving a lift to a tired brother when he meets. As regard the houses of the devils, I have not seen them. The narrator Sa’id says “I think they are those cages (Camel litters) which conceal people with brocade.”
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کچھ اونٹ ۱؎ شیطانوں کے ہوتے ہیں، اور کچھ گھر شیطانوں کے ہوتے ہیں، رہے شیطانوں کے اونٹ تو میں نے انہیں دیکھا ہے، تم میں سے کوئی شخص اپنے کوتل اونٹ کے ساتھ نکلتا ہے جسے اس نے کھلا پلا کر موٹا کر رکھا ہے ( خود ) اس پر سواری نہیں کرتا، اور اپنے بھائی کے پاس سے گزرتا ہے، دیکھتا ہے کہ وہ چلنے سے عاجز ہو گیا ہے اس کو سوار نہیں کرتا، اور رہے شیطانوں کے گھر تو میں نے انہیں نہیں دیکھا ہے ۲؎۔ سعید کہتے تھے: میں تو شیطانوں کا گھر انہیں ہودجوں کو سمجھتا ہوں جنہیں لوگ ریشم سے ڈھانپتے ہیں۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي يَحْيَى، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِنْدٍ، قَالَ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " تَكُونُ إِبِلٌ لِلشَّيَاطِينِ وَبُيُوتٌ لِلشَّيَاطِينِ فَأَمَّا إِبِلُ الشَّيَاطِينِ فَقَدْ رَأَيْتُهَا يَخْرُجُ أَحَدُكُمْ بِجَنِيبَاتٍ مَعَهُ قَدْ أَسْمَنَهَا فَلاَ يَعْلُو بَعِيرًا مِنْهَا وَيَمُرُّ بِأَخِيهِ قَدِ انْقَطَعَ بِهِ فَلاَ يَحْمِلُهُ وَأَمَّا بُيُوتُ الشَّيَاطِينِ فَلَمْ أَرَهَا " . كَانَ سَعِيدٌ يَقُولُ لاَ أُرَاهَا إِلاَّ هَذِهِ الأَقْفَاصَ الَّتِي يَسْتُرُ النَّاسُ بِالدِّيبَاجِ .
#2569
Sahih
Abu Hurairah reported the Apostle of Allaah(ﷺ) as saying “When you travel in fertile country, give the Camel their due (from the ground), and when you travel in time of drought make them go quickly. When you intend to encamp in the last hours of the night, keep away from the roads.”
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سرسبز علاقوں میں سفر کرو تو اونٹوں کو ان کا حق دو ۱؎ اور جب قحط والی زمین میں سفر کرو تو تیز چلو ۲؎، اور جب رات میں پڑاؤ ڈالنے کا ارادہ کرو تو راستے سے ہٹ کر پڑاؤ ڈالو ۳؎ ۔
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، أَخْبَرَنَا سُهَيْلُ بْنُ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِذَا سَافَرْتُمْ فِي الْخِصْبِ فَأَعْطُوا الإِبِلَ حَقَّهَا وَإِذَا سَافَرْتُمْ فِي الْجَدْبِ فَأَسْرِعُوا السَّيْرَ فَإِذَا أَرَدْتُمُ التَّعْرِيسَ فَتَنَكَّبُوا عَنِ الطَّرِيقِ " .
#2570
Sahih
A similar tradition has also been narrated by Jabir bin ‘Abd Allaah from the Prophet (ﷺ). But this version adds after the phrase “their due” And do not go beyond the destinations
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسی ہی روایت کی ہے، مگر اس میں آپ کے قول «فأعطوا الإبل حقها» کے بعد اتنا اضافہ ہے کہ منزلوں کے آگے نہ بڑھو ( تاکہ جانور کو تکلیف نہ ہو ) ۔
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا هِشَامٌ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم نَحْوَ هَذَا قَالَ بَعْدَ قَوْلِهِ " حَقَّهَا " . " وَلاَ تَعْدُوا الْمَنَازِلَ " .
#2571
Sahih
Anas reported the Apostle of Allaah(ﷺ) as saying “Keep to travelling by night, for the earth is traversed (more easily) by night
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: رات کے آخری حصہ میں سفر کرنے کو لازم پکڑو، کیونکہ زمین رات کو لپیٹ دی جاتی ہے ۱؎ ۔
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ يَزِيدَ، حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ الرَّازِيُّ، عَنِ الرَّبِيعِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " عَلَيْكُمْ بِالدُّلْجَةِ فَإِنَّ الأَرْضَ تُطْوَى بِاللَّيْلِ " .
#2572
Hasan Sahih
Narrated Buraydah ibn al-Hasib: While the Messenger of Allah (ﷺ) was walking a man who had an ass came to him and said: Messenger of Allah, ride; and the man moved to the back of the animal. The Messenger of Allah (ﷺ) said: No, you have more right to ride in front on your animal than me unless you grant that right to me. He said: I grant it to you. So he mounted
بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چل رہے تھے کہ اسی دوران ایک آدمی آیا اور اس کے ساتھ ایک گدھا تھا، اس نے کہا: اللہ کے رسول سوار ہو جائیے اور وہ پیچھے سرک گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اپنی سواری پر آگے بیٹھنے کا مجھ سے زیادہ حقدار ہو، الا یہ کہ تم مجھے اس اگلے حصہ کا حقدار بنا دو ، اس نے کہا: اللہ کے رسول! میں نے آپ کو اس کا حقدار بنا دیا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس پر سوار ہوئے۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ ثَابِتٍ الْمَرْوَزِيُّ، حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حُسَيْنٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُرَيْدَةَ، قَالَ سَمِعْتُ أَبِي بُرَيْدَةَ، يَقُولُ بَيْنَمَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَمْشِي جَاءَ رَجُلٌ وَمَعَهُ حِمَارٌ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ارْكَبْ . وَتَأَخَّرَ الرَّجُلُ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لاَ أَنْتَ أَحَقُّ بِصَدْرِ دَابَّتِكَ مِنِّي إِلاَّ أَنْ تَجْعَلَهُ لِي " . قَالَ فَإِنِّي قَدْ جَعَلْتُهُ لَكَ . فَرَكِبَ .
#2573
Hasan
Narrated Abbad ibn Abdullah ibn az-Zubayr: My foster-father said to me - he was one of Banu Murrah ibn Awf, and he was present in that battle, the battle of Mu'tah: By Allah, as if I am seeing Ja'far who jumped from his reddish horse and hamstrung it; he then fought with the people until he was killed. Abu Dawud said: The tradition is not strong
عباد بن عبداللہ بن زبیر کہتے ہیں کہ میرے رضاعی والد نے جو بنی مرہ بن عوف میں سے تھے مجھ سے بیان کیا کہ وہ غزوہ موتہ کے غازیوں میں سے تھے، وہ کہتے ہیں: اللہ کی قسم! گویا کہ میں جعفر بن ابوطالب رضی اللہ عنہ کو دیکھ رہا ہوں جس وقت وہ اپنے سرخ گھوڑے سے کود پڑے اور اس کی کونچ کاٹ دی ۱؎، پھر دشمنوں سے لڑے یہاں تک کہ قتل کر دیئے گئے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ حدیث قوی نہیں ہے ۲؎۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي ابْنُ عَبَّادٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ قَالَ أَبُو دَاوُدَ وَهُوَ يَحْيَى بْنُ عَبَّادٍ - حَدَّثَنِي أَبِي الَّذِي، أَرْضَعَنِي وَهُوَ أَحَدُ بَنِي مُرَّةَ بْنِ عَوْفٍ - وَكَانَ فِي تِلْكَ الْغَزَاةِ غَزَاةِ مُؤْتَةَ - قَالَ وَاللَّهِ لَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى جَعْفَرٍ حِينَ اقْتَحَمَ عَنْ فَرَسٍ لَهُ شَقْرَاءَ فَعَقَرَهَا ثُمَّ قَاتَلَ الْقَوْمَ حَتَّى قُتِلَ . قَالَ أَبُو دَاوُدَ هَذَا الْحَدِيثُ لَيْسَ بِالْقَوِيِّ .
#2574
Sahih
Narrated AbuHurayrah: The Prophet (ﷺ) said: Wagers are allowed only for racing camels, or horses or shooting arrows
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مقابلہ میں بازی رکھنا جائز نہیں ۱؎ سوائے اونٹ یا گھوڑے کی دوڑ میں یا تیر چلانے میں ۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ نَافِعِ بْنِ أَبِي نَافِعٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لاَ سَبْقَ إِلاَّ فِي خُفٍّ أَوْ فِي حَافِرٍ أَوْ نَصْلٍ " .
#2575
Sahih
‘Abd Allah bin Umar said “The Apostle of Allaah(ﷺ) held race between the horses which had been made lean by training from Al Hafya’. The goal was Thaniyyat Al Wada’ and he held a race between the horses Banu Zuraiq and ‘Abd Allaah was one of the racers
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھرتیلے چھریرے بدن والے گھوڑوں کے درمیان ۱؎حفیاء سے ثنیۃ الوداع تک مقابلہ کرایا، اور غیر چھریرے بدن والے گھوڑوں، کے درمیان ثنیۃ الوداع سے مسجد بنی زریق تک مقابلہ کرایا اور عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بھی مقابلہ کرنے والوں میں سے تھے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم سَابَقَ بَيْنَ الْخَيْلِ الَّتِي قَدْ ضُمِّرَتْ مِنَ الْحَفْيَاءِ وَكَانَ أَمَدُهَا ثَنِيَّةَ الْوَدَاعِ وَسَابَقَ بَيْنَ الْخَيْلِ الَّتِي لَمْ تُضْمَرْ مِنَ الثَّنِيَّةِ إِلَى مَسْجِدِ بَنِي زُرَيْقٍ وَإِنَّ عَبْدَ اللَّهِ كَانَ مِمَّنْ سَابَقَ بِهَا .