Sunan Abu Dawud

Hadith #5210

Sahih
العربية
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْجُدِّيُّ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ خَالِدٍ الْخُزَاعِيُّ، قَالَ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُفَضَّلِ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، رضى الله عنه - قَالَ أَبُو دَاوُدَ رَفَعَهُ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ - قَالَ ‏ "‏ يُجْزِئُ عَنِ الْجَمَاعَةِ، إِذَا مَرُّوا أَنْ يُسَلِّمَ، أَحَدُهُمْ وَيُجْزِئُ عَنِ الْجُلُوسِ أَنْ يَرُدَّ أَحَدُهُمْ ‏"‏ ‏.‏
English
Narrated Ali ibn AbuTalib: AbuDawud said: Al-Hasan ibn Ali traced this tradition back to the Prophet (ﷺ): When people are passing by, it is enough if one of them gives a salutation on their behalf, and that it is enough for those who are sitting if one of them replies
اردو
علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے (ابوداؤد کہتے ہیں: حسن بن علی نے اسے مرفوع کیا ہے) ، وہ کہتے ہیں اگر جماعت گزر رہی ہو ( لوگ چل رہے ہوں ) تو ان میں سے کسی ایک کا سلام کر لینا سب کی طرف سے سلام کے لیے کافی ہو گا، ایسے ہی لوگ بیٹھے ہوئے ہوں اور ان میں سے کوئی ایک سلام کا جواب دیدے تو وہ سب کی طرف سے کفایت کرے گا ۱؎۔

Find a Hadith