العربية
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا سُهَيْلٌ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ جَاءَهُ نَاسٌ مِنْ أَصْحَابِهِ فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ نَجِدُ فِي أَنْفُسِنَا الشَّىْءَ نُعْظِمُ أَنْ نَتَكَلَّمَ بِهِ أَوِ الْكَلاَمَ بِهِ مَا نُحِبُّ أَنَّ لَنَا وَأَنَّا تَكَلَّمْنَا بِهِ . قَالَ " أَوَقَدْ وَجَدْتُمُوهُ " . قَالُوا نَعَمْ . قَالَ " ذَاكَ صَرِيحُ الإِيمَانِ " .
English
Abu Hurairah said; His companion came to him and said; Messenger of Allah! We have thoughts which we cannot dare talk about and we do not like that we have them or talk about them. He said:Have you experienced that? They replied: yes. He said : that is clear faith اردو
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں سے کچھ لوگ آئے، اور انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم اپنے دلوں میں ایسے وسوسے پاتے ہیں، جن کو بیان کرنا ہم پر بہت گراں ہے، ہم نہیں چاہتے کہ ہمارے اندر ایسے وسوسے پیدا ہوں اور ہم ان کو بیان کریں، آپ نے فرمایا: کیا تمہیں ایسے وسوسے ہوتے ہیں؟ انہوں نے کہا: ہاں، آپ نے فرمایا: یہ تو عین ایمان ہے ۱؎ ۔