العربية
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ سُفْيَانَ، قَالَ حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ الأَقْمَرِ، عَنْ أَبِي حُذَيْفَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ قُلْتُ لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم حَسْبُكَ مِنْ صَفِيَّةَ كَذَا وَكَذَا قَالَ غَيْرُ مُسَدَّدٍ تَعْنِي قَصِيرَةً . فَقَالَ " لَقَدْ قُلْتِ كَلِمَةً لَوْ مُزِجَتْ بِمَاءِ الْبَحْرِ لَمَزَجَتْهُ " . قَالَتْ وَحَكَيْتُ لَهُ إِنْسَانًا فَقَالَ " مَا أُحِبُّ أَنِّي حَكَيْتُ إِنْسَانًا وَأَنَّ لِي كَذَا وَكَذَا " .
English
Narrated Aisha, Ummul Mu'minin: I said to the Prophet (ﷺ): It is enough for you in Safiyyah that she is such and such (the other version than Musaddad's has:) meaning that she was short-statured. He replied; You have said a word which would change the sea if it were mixed in it. She said: I imitated a man before him (out of disgrace). He said: I do not like that I imitate anyone even if I should get such and such اردو
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: آپ کے لیے تو صفیہ رضی اللہ عنہا کا یہ اور یہ عیب ہی کافی ہے، یعنی پستہ قد ہونا تو آپ نے فرمایا: تم نے ایسی بات کہی ہے کہ اگر وہ سمندر کے پانی میں گھول دی جائے تو وہ اس پر بھی غالب آ جائے اور میں نے ایک شخص کی نقل کی تو آپ نے فرمایا: مجھے یہ بات پسند نہیں کہ میں کسی انسان کی نقل کروں اگرچہ میرے لیے اتنا اور اتنا ( مال ) ہو ۔