العربية
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ نَصْرٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ يُونُسَ النَّسَائِيُّ، - الْمَعْنَى - قَالاَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ الْمُقْرِئُ، حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ، - يَعْنِي ابْنَ عِمْرَانَ - حَدَّثَنِي أَبُو يُونُسَ، سُلَيْمُ بْنُ جُبَيْرٍ مَوْلَى أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقْرَأُ هَذِهِ الآيَةَ { إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُكُمْ أَنْ تُؤَدُّوا الأَمَانَاتِ إِلَى أَهْلِهَا } إِلَى قَوْلِهِ تَعَالَى { سَمِيعًا بَصِيرًا } قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَضَعُ إِبْهَامَهُ عَلَى أُذُنِهِ وَالَّتِي تَلِيهَا عَلَى عَيْنِهِ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ . رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقْرَؤُهَا وَيَضَعُ إِصْبَعَيْهِ قَالَ ابْنُ يُونُسَ قَالَ الْمُقْرِئُ يَعْنِي { إِنَّ اللَّهَ سَمِيعٌ بَصِيرٌ } يَعْنِي أَنَّ لِلَّهِ سَمْعًا وَبَصَرًا . قَالَ أَبُو دَاوُدَ وَهَذَا رَدٌّ عَلَى الْجَهْمِيَّةِ .
English
Abu Yunus Sulaim b. Jubair, client of Abu Hurairah, said :I heard Abu Hurairah recite this verse : “Allah doth command you to render back your trusts to those to whom they are due” up to “For Allah is he who heareth and seeth all things”. He said : I saw the Messenger of Allah (May peace be upon him) putting his thumb on his ear and finger on his eye. Abu Hurairah said : I saw the Messenger of Allah (May peace be upon him) reciting this verse and putting his fingers. Ibn Yunus said that al-Muqri said. “Allah hears and sees” means that Allah has the power of hearing and seeing. Abu Dawud said: This is a refutation of the Jahmiyyah اردو
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے غلام ابو یونس سلیم بن جبیر کہتے ہیں کہ میں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو آیت کریمہ «إن الله يأمركم أن تؤدوا الأمانات إلى أهلها *** إلى قوله تعالى *** سميعا بصيرا» اللہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ تم امانتوں کو ان کے مالکوں تک پہنچا دو۔ ۔ ۔ اللہ سننے اور دیکھنے والا ہے ( سورۃ النساء: ۵۸ ) تک پڑھتے سنا، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ اپنے انگوٹھے کو اپنے کان پر اور انگوٹھے کے قریب والی انگلی کو آنکھ پر رکھتے، ( یعنی شہادت کی انگلی کو ) ، ابوہریرہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اسے پڑھتے اور اپنی دونوں انگلیوں کو رکھتے دیکھا۔ ابن یونس کہتے ہیں: عبداللہ بن یزید مقری نے کہا: یعنی«إن الله سميع بصير» پر انگلی رکھتے تھے، مطلب یہ ہے کہ اللہ کے کان اور آنکھ ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ جہمیہ کا رد ہے ۱؎۔