العربية
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الْهَمْدَانِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي أَبُو أُمَامَةَ بْنُ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ بَعْضُ، أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِنَ الأَنْصَارِ أَنَّهُ اشْتَكَى رَجُلٌ مِنْهُمْ حَتَّى أُضْنِيَ فَعَادَ جِلْدَةً عَلَى عَظْمٍ فَدَخَلَتْ عَلَيْهِ جَارِيَةٌ لِبَعْضِهِمْ فَهَشَّ لَهَا فَوَقَعَ عَلَيْهَا فَلَمَّا دَخَلَ عَلَيْهِ رِجَالُ قَوْمِهِ يَعُودُونَهُ أَخْبَرَهُمْ بِذَلِكَ وَقَالَ اسْتَفْتُوا لِي رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَإِنِّي قَدْ وَقَعْتُ عَلَى جَارِيَةٍ دَخَلَتْ عَلَىَّ . فَذَكَرُوا ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَقَالُوا مَا رَأَيْنَا بِأَحَدٍ مِنَ النَّاسِ مِنَ الضُّرِّ مِثْلَ الَّذِي هُوَ بِهِ لَوْ حَمَلْنَاهُ إِلَيْكَ لَتَفَسَّخَتْ عِظَامُهُ مَا هُوَ إِلاَّ جِلْدٌ عَلَى عَظْمٍ فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنْ يَأْخُذُوا لَهُ مِائَةَ شِمْرَاخٍ فَيَضْرِبُوهُ بِهَا ضَرْبَةً وَاحِدَةً .
English
Narrated Abu Umamah b. Sahl Hunaif: AbuUmamah ibn Sahl ibn Hunayf said that some companions of the Messenger of Allah (ﷺ) told that one of their men suffered so much from some illness that he pined away until he was skin and bone (i.e. only a skeleton). A slave-girl of someone visited him, and he was cheered by her and had unlawful intercourse with her. When his people came to visit the patient, he told them about it. He said: Ask the Messenger of Allah (ﷺ) about the legal verdict for me, for I have had unlawful intercourse with a slave-girl who visited me. So they mentioned it to the Messenger of Allah (ﷺ) saying: We have never seen anyone (so weak) from illness as he is. If we bring him to you, his bones will disintegrate. He is only skin and bone. So the Messenger of Allah (ﷺ) commanded them to take one hundred twigs and strike him once اردو
ابوامامہ اسعد بن سہل بن حنیف انصاری رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کچھ انصاری صحابہ نے انہیں بتایا کہ انصاریوں میں کا ایک آدمی بیمار ہوا وہ اتنا کمزور ہو گیا کہ صرف ہڈی اور چمڑا باقی رہ گیا، اس کے پاس انہیں میں سے کسی کی ایک لونڈی آئی تو وہ اسے پسند آ گئی اور وہ اس سے جماع کر بیٹھا، پھر جب اس کی قوم کے لوگ اس کی عیادت کرنے آئے تو انہیں اس کی خبر دی، اور کہا میرے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مسئلہ پوچھو، کیونکہ میں نے ایک لونڈی سے صحبت کر لی ہے، جو میرے پاس آئی تھی، چنانچہ انہوں نے یہ واقعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ذکر کیا، اور کہا: ہم نے تو اتنا بیمار اور ناتواں کسی کو نہیں دیکھا جتنا وہ ہے، اگر ہم اسے لے کر آپ کے پاس آئیں تو اس کی ہڈیاں جدا ہو جائیں، وہ صرف ہڈی اور چمڑے کا ڈھانچہ ہے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ درخت کی سو ٹہنیاں لیں، اور اس سے اسے ایک بار مار دیں۔