العربية
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ سَهْلٍ الرَّمْلِيُّ، حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، - يَعْنِي الأَعْوَرَ - حَدَّثَنِي شُعْبَةُ، بِإِسْنَادِهِ بِهَذَا الْحَدِيثِ قَالَ ثُمَّ نَفَخَ فِيهَا وَمَسَحَ بِهَا وَجْهَهُ وَكَفَّيْهِ إِلَى الْمِرْفَقَيْنِ أَوْ إِلَى الذِّرَاعَيْنِ . قَالَ شُعْبَةُ كَانَ سَلَمَةُ يَقُولُ الْكَفَّيْنِ وَالْوَجْهَ وَالذِّرَاعَيْنِ فَقَالَ لَهُ مَنْصُورٌ ذَاتَ يَوْمٍ انْظُرْ مَا تَقُولُ فَإِنَّهُ لاَ يَذْكُرُ الذِّرَاعَيْنِ غَيْرُكَ .
English
This is transmitted by Shu'bah through a different chain of narrators. This version adds:He ('Ammar) said: He (the Prophet) then blew it and wiped with it his face and hands up to elbows or up to the forearms. Shu'bah said: Salamah used to narrate (the words) "the hands and the face and the forearms". One day Mansur said to him: Look, what are you saying, because no one except you mentions the (word) "forearms اردو
حجاج اعور کہتے ہیں کہ شعبہ نے اسی سند سے یہی حدیث بیان کی ہے، اس میں ہے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں پھونک ماری اور اپنے چہرے اور اپنی دونوں ہتھیلیوں پر کہنیوں یا ذراعین ۱؎ تک پھیرا۔ شعبہ کا بیان ہے کہ سلمہ کہتے تھے: دونوں ہتھیلیوں، چہرے اور ذراعین پر پھیرا، تو ایک دن منصور نے ان سے کہا: جو کہہ رہے ہو خوب دیکھ بھال کر کہو، کیونکہ تمہارے علاوہ ذراعین کو اور کوئی ذکر نہیں کرتا۔