العربية
حَدَّثَنَا مَخْلَدُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ أُخْبِرَ بِقَوْلِ، عَائِشَةَ رضى الله عنها إِنَّ الْحَجَرَ بَعْضُهُ مِنَ الْبَيْتِ . فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ وَاللَّهِ إِنِّي لأَظُنُّ عَائِشَةَ إِنْ كَانَتْ سَمِعَتْ هَذَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِنِّي لأَظُنُّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لَمْ يَتْرُكِ اسْتِلاَمَهُمَا إِلاَّ أَنَّهُمَا لَيْسَا عَلَى قَوَاعِدِ الْبَيْتِ وَلاَ طَافَ النَّاسُ وَرَاءَ الْحِجْرِ إِلاَّ لِذَلِكَ .
English
Ibn Umar was informed about the statement of Aisha that a part of al-Hijr is included in the magnitude of the Ka'bah. Ibn Umar said:By Allah, I think that she must have heard it from the Messenger of Allah (ﷺ). I think that the Messenger of Allah (ﷺ) had not given up touching both of them but for the reason that they were not on the foundation of the House (the Ka'bah), nor did the people circumambulate (the House) beyond al-Hijr for this reason اردو
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہیں ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کا یہ قول معلوم ہوا کہ حطیم کا ایک حصہ بیت اللہ میں شامل ہے، تو ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: اللہ کی قسم! میرا گمان ہے کہ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے اسے ضرور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہو گا، میں سمجھتا ہوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان ( رکن عراقی اور رکن شامی ) کا استلام بھی اسی لیے چھوڑا ہو گا کہ یہ بیت اللہ کی اصلی بنیادوں پر نہ تھے اور اسی وجہ سے لوگ حطیم ۱؎ کے پیچھے سے طواف کرتے تھے۔